حکیم اجمل خان
معروف کیم وحب الوطن
حکیم اگل خان ملک کے ا ناز پوست تھے۔ ان کی پیدائش ۱۸۲۴ ء میں دہلی میں ہوئی ۔ حکیم صاحب کا خاندان بڑا وضع دار تھا۔ آپ کے والد بزرگوار حکیم محمود خان بھی اپنے دور کے ایک معروف حکیم تھے۔
| Pic Source:Google |
ان کے والد نے اپنے بیٹے کو لکھا کہ راست بازی کا راستہ اختیار کرو۔ مال حرام سے دور رہو۔ ہمیشہ حلال مال کھاؤ اور دوسروں کو کھلا و محتاجوں غریبوں کی مدد کرو۔ نش آور چیزوں سے پرہیز کرو۔ اور لوگوں کا علاج نہایت محنت اور سوچ سمجھ کر کیا کرو تمام خراب کا موں سے ہمیشہ دور رہو۔
حکیم اجمل صاحب تا عمر باپ کی ان باتوں پر قائم رہے ۔ بڑے بڑے راجہ اور میں ان سے اپنا علاج کراتے تھے۔ اس زمانے میں ان کی فیس ایک ہزار روپے تھی۔ دبلی والوں سے بھی کوئی میں نہ کی اور غریب لوگوں سے بھی فیس کا مطالب نہیں کیا بلکہ انہیں مفت دوائیں بھی فراہم کیں ۔ ان کے یہاں ہندومسلمان کی تمیز بھی۔
| Pic Source:Google |
حکمت کے علاوہ انہیں سیاست سے بھی دی تھی ۔ ۱۹۲۷ ء میں ترک موالات ک تریک شروع ہوئی حکیم صاحب نے اس میں حصہ لیا۔ انہوں نے انگریزوں ک خطاب واپس کیا اور قوم نے نہیں یح الملک کا خطاب مرحمت کیا۔
حکیم صاحب کوتعلیم سے بے تعلق اور لگاو تھا، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پہلے امیر جامعی مقرر کے گئے تھے۔
حکیم صاحب غریبوں کے بہت ہمدرد تھے ضرورت کے درمیان انہیں پیسے دیا کرتے تھے۔عیتھے۔حکیم صاحب بہت بڑے حب الوطن بھی تھے۔
0 Comments